بارہ ماسا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ فرافیہ گیت جس میں فراق زدہ عورت کی زبان سے بارہ مہینوں کی تکلیف اور کیفیت ہجر کا بیان ہوتا ہے۔ "اس نے ایک آنکھ کھول کے کسان کو دیکھا جو انگوچھا سر پر لپیٹے زور زور سے بارہ ماسا الاپتا بستی کی اور لپکا جا رہا تھا۔"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ١٥٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ صفت عددی 'بارہ' کے ساتھ اسم 'ماس' لگا اور 'ا' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'بارہ ماسا' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٠ء میں "مقالات حالی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ فرافیہ گیت جس میں فراق زدہ عورت کی زبان سے بارہ مہینوں کی تکلیف اور کیفیت ہجر کا بیان ہوتا ہے۔ "اس نے ایک آنکھ کھول کے کسان کو دیکھا جو انگوچھا سر پر لپیٹے زور زور سے بارہ ماسا الاپتا بستی کی اور لپکا جا رہا تھا۔"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ١٥٢ )

جنس: مذکر